یو ایس بی کا استعمال خطرناک بن گیا، چپ میں موجود خفیہ وائرس کا انکشاف

مختلف ڈیوائسز کو آپس میں جوڑنے اور ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کے لئے آج کل یو ایس بی  کا استعمال کیا جاتا ہے۔  فلاپی ڈسک اور سی ڈی / ڈی وی ڈی کے مقابلے میں یو ایس بی کے ذریعے ڈیٹا ٹرانسفر زیادہ آسان اور تیز تر ہے۔



آپ سبھی یہ بات جانتے ہونگے کی اکثر یوایس بی ڈیوائسز ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر میں وائرس اور مالوئیر منتقل کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ لیکن اگر آپ اچھا اور اپڈیٹڈ  اینٹی وائرس استعمال کررہے ہیں تو پھر وائرس کی فکر سے نجات مل جاتی ہے۔
تاہم اگر وائرس کو یو ایس بی کی چپ میں چھپایا جائے تو دنیا کا کوئی بھی اینٹی وائرس اسے سکین نہیں کرسکتا۔ جی ہاں یوایس بی کی چپ جس میں موجود سافٹوئیر (فرموئیر) کمپیوٹر کو یہ بتاتا ہے کہ اسکے ساتھ لگائے جانے والی یوایس بی، ڈیٹا ڈرائیو ہے،کی بورڈ ہے یاپھر کوئی موبائل وغیرہ۔
حال ہی میں لاس ویگاس میں منعقد ہونے والی جرمن Black Hat Hackers Conference کے دوران ریسرچرز نے یو ایس بی چیپ میں وائرس اور مالوئیر کی نشاندہی کرکے ساری دنیا کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔کانفرنس کے موقع پر دکھائے جانے والے تجربات میں ایک وائرس زدہ یوایس بی کو جب کمپیوٹر سے لگایا گیا تو کمپیوٹر نے اسے بطور کی بورڈ پہچانا، حالانکہ وہ کی بورڈ نہیں تھا۔ اب یوایس بی میں موجود وائرس آپ کے کمپیوٹر کی ہر دبائی جانے والی کی کا حساب رکھ سکتا ہے اورنہ صرف آپ کی ذاتی معلومات بلکہ خفیہ ترین پاسورڈز بھی بغیر کسی تگ و دو کے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
دوسرے تجربہ میں یوایس بی نے نیٹورک کارڈ کا روپ دھارا اور کمپیوٹر کو دھوکہ دیا جسکی بدولت انٹرنیٹ کی تمام ٹریفک اب وائرس کے کنٹرول میں تھی۔ یعنی آپ جو ویب سائیٹ کھولیں یا اپنی معلومات وہاں انٹر کریں یہ سب کچھ ہیکرز تک پہنچ سکتا ہے۔
صرف یہی نہیں یو ایس بی کی فرموئیر میں تھوڑی بہت تبدیلی کرکے اسے کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، اور خطرناک بات یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی اینٹی وائرس ایسی یوایس بی کو شناخت نہیں کرسکتا اور صارف کو بھی اس ہیکنگ کا پتہ نہیں چلے گا۔

Ad Code

Responsive Advertisement