گوگل کی سترھوں سالگرہ


آج گوگل کی 17 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے اور یقیناً تمام ہی لوگ اس نام سے اچھی طرح واقف ہونگے۔ گوگل نے گذشتہ چند سالوں میں ایسی ترقی کی ہے کہ اب بعض اوقات انٹرنیٹ اور گوگل کو ایک ہی معنوں میں استعمال کیا جانے لگا ہے۔ گوگل نہ صرف ایک سرچ انجن بلکہ اپنی سروسز اور مصنوعات کے ذریعے ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔
  سٹینفورڈ یونیورسٹی کے دو ہونہار طالب علموں، لیری پیج اور سرگی برن نے  1996 میں ایک ریسرچ پراجیکٹ کا آغاز کیا جس میں پہلی بار ایک ایسےسرچ انجن کا آئیڈیا پیش کیا گیا جو “پیچ رینک” ٹیکنالوجی کو استعمال کرئے۔ اس پراجیکٹ کو بلیک رب کا نام دیا گیا اور بعد ازاں 1998 میں گوگل نامی کمپنی معرض وجود میں آئی۔
اس وقت کمپنی کی مالیت کم و بیش 400 ارب امریکی ڈالر یا پاکستانی 400 کھرب روپے ہے اور امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں گوگل نہ صرف صف اول کا سرچ انجن ہے  بلکہ یہ  دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والی ویب سائیٹ بھی ہے۔
سرچ انجن کے ساتھ ساتھ گوگل کی دیگر سروسز جیسے، جی میل، یوٹیوب، میپس، گوگل ارتھ اور سماجی رابطہ کی ویب سائیٹگوگل پلس بھی کافی مقبول ہیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران گوگل نے سروسز کے ساتھ ساتھ ہارڈوئیر مصنوعات کا کاروبار بھی شروع کیا ہے، جس میں اینڈرائیڈ سمارٹ فونز، گوگل گلاس اور گوگل کی بناء ڈرائیو کے گاڑی کافی مقبول ہیں۔


گوگل کی اس بڑھتی ہوئی مقبولیت اور صارفین کی ذاتی زندگیوں میں دخل اندازی کے سبب بہت سے ممالک میں اس پر پابندی بھی لگائی گئی ہے، اور اس خدشہ کا بھی اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ کمپنی دراصل امریکی خفیہ ایجنسیوں کے لیے مواد اکھٹا کرنے کا کام کرتی ہے۔
خیر یہ سب باتیں ایک طرف لیکن حقیقت یہ ہے کہ گوگل نے ان 17 برسوں میں دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے لیے بے حد آسانیاں پیدا کی ہیں اور انہیں اپنا محتاج بنا لیا ہے۔ اگر آج گوگل کی سروسز بند کردی جائیں تو اربوں لوگ اس سے متاثر ہونگے۔


Ad Code

Responsive Advertisement