وزیراعظم پاکستان کے نام خط











             محترم جناب وزیراعظم پاکستان

اسلام و علیکم!
                 جناب میرا نام محمد دانش ارشاد ہے۔ میں کراچی کا رہائشی ہوں۔ میں گذشتہ کئی سالوں سے اپنے ملک پاکستان کے مسائل کے حل کے لئے کوشش کر رہا ہوں اور ایک پاکستانی شہری کی حثیت سے میرا فرض ہے کہ میں اپنے ملک کی لئے جو کچھ بھی ہو سکے کروں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہمارے ملک میں کرنے مسائل ہیں اور کس طرح کی لاقانونت ہے، دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی اور قوم پرستی کتنی ہے۔ انہی مسائل کے کچھ حل میرے پاس ہیں اور اسی مقصد سے میں یہ خط آج آپ کو لکھ رہا ہوں جس میں کچھ تجاویز پیش کر رہا ہوں جس سے ہمارا ملک ایک بہتر پاکستان ، لا قانونت سے پاک اور پر امن ملک بن سکتا ہے۔  ان تجاویز میں میں ملک کے کچھ مسائل قانون اور اسکے نظام کے بارے میں ، صحت و صفائی، تعلیم،    کے لئے کچھ تجاویز پیش کررہا ہوں۔

اس خط کو زیادہ طول دینے کے بجائے میں آغاز کرتا ہوں ۔ سب سے پہلے آپ کو اس ملک کے لوگوں کی سوچ بدلنا ہوگی۔ ملک کا سب سے بڑا مسلہ قوم پرستی سے اس کے لئے آپ سب سے پہلے آپ آل پارٹی کانفرنس بلائیں اور اس میں پاکستان کی تمام پارٹیوں کے سامنے یہ بات رکھیں کے ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور وہ اس ملک کی طرقی کے لئے آپس میں اتحاد رکھیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتجاج اور مظاہروں وغیرہ سے پرہز کریں اور جو پارٹیاں ملک میں چھوٹی ہوں یہ بڑی سب سے برابری پر بات کریں اور ملک میں جو پارٹیاں اسمبلیوں میں ہیں وہ بات بات پر اسمبلی چھوڑ کر نہ جائیں اور اسمبلیوں میں بد اخلاقی یہ بد زبانی سے پرہیز کریں کیوں کے وہ ایک ملک چلا رہی ہیں ۔ اور ملک چلانے کے لئے ٹھنڈے دماغ سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر کسی پارٹی کو کوئی مسلہ در پیش ہے تو وہ بجائے کسی مسلے کا خود ساختہ حل نکالنے کے یہ خود کسی فیصلے کو کرنے کے وہ دوسری پارٹیوں سے بھی رابطہ کریں اور صلہ مشورہ کرلیں کیوں کے انکے کسی بھی فیصلے کا اثر ملک پر بھی ہوتا ہے اور ملکی حالات پر بھی۔ ملک میں تمام پارٹیوں کو اعتماد میں لے کر ملک میں قوم پرستی پر منبی جماعتوں پر پابندی لگادی جائے اور ملک میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملک کر ایک مہم شروع کی جائے جس سے آپ سیاسی جماعتوں اور انکے کارکنوں اور یونیورسٹیوں سے اسٹوڈینڈذ کے ساتھ ملک کر پاکستانی قوم کے لئے مہم شروع کریں اور لوگوں کو سمجھائیں کے ملک میں آپ جہاں سے بھی ہوں ، جس زبان سے ، جس قوم سے ، جس علاقے سے ، جس مذہب سے ، جس مسلک سے آپ کا تعلق ہو آپ صرف اپنی قوم کی پہچان صرف اپنوں تک ہی رکھیں اور ملک میں میں کوئی بھی آپ سے آپ کی قوم کے بارے میں پوچھے تو آپ خود کو اپنی قوم سے نہیں ایک پاکستانی کی حثیت سے پہچان کروائیں۔ اس کام میں شاید کچھ دہیایاں بھی لگ سکتی ہیں لیکن اس طریقے سے اس ملک میں جلد ہی ایک پاکستانی قوم بن کر کھڑی ہو جائے گی اور قوموں میں بٹا پاکستان ایک پاکستانی قوم کا پاکستان بن جائے گا ۔ جو ترقی کے لئے بھی تیار ہوگی ۔ اس قوم کی جب تک سوچ نہیں بدلے گی ملک ترقی نہیں کرے گا۔ پاکستان سالانہ پچاس لاکھ کی آبادی سے بڑھ رہا ہے اور ملک میں ہر دوسرے سال ایک کروڑ کی آبادی کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہاں لوگ قانون توڑنا فخر کی بات سمجھتے ہیں شرم کی نہیں۔ کوئی غلط کام کر کے فخریہ انداز میں بیان کرتے ہیں اور رائی برابر بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔ لوگ جب بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکڑ کے پاس جانے کے بجائے نیم حکیموں ، جالی عالموں اور مسجد کے مولانا کے پاس جاتے ہیں۔ باہر جو چیز کھاتے ہیں وہیں کچرا بھینک دیتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جب تک لوگوں کی سوچ نہیں بدلے گی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اور اس کام کو تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات ، سیاسی جماعتوں کے کارکنان, ہمارا میڈیا اور اینٹرٹینمینٹ انڈسٹری مل کر لوگوں کی سوچ کو آسانی سے بدل سکتے ہیں۔ آپ آل پارٹی کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں سے اور میڈیا سے اس کام میں مدد کی درخواست کریں جو یقیناً منا نہیں کریں گے آپ ملک کے انٹرٹینمنٹ انڈسڑی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بلا کر ان کے لئے ایک دعوت دی جائے اور ان کو اپنے ملک کے مسائل پر برفینگ کے بعد ان سے پاکستانی عوام کی اس سوچ کو بدلنے میں مدد کی درخواست کی جائے اس طرح تعلیمی اداروں میں بھی طالبعلموں سے مدد کی درخواست کی جائے۔ ملک میں ماہر نفشیات کی بھی خدمت لی جائیں اور ان کی مدد سے ایسے پروگرامز اور ایسے اشتہارات بنائیں جائیں جن سے لوگوں کی سوچ پر مثبت اثر پڑے اس طریقے سے انشااللہ بہت جلد ہی ایک بہتر پاکستان کے لئے اور ترقی کے لئے تیار جلد ہی ایک قوم سامنے ہوگی ۔ ایک پاکستانی قوم۔ 

قانون اور اسکا نظام

جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہمارا ملک حالت جنگ میں ہے اور ہماری بہادر افواج ملک کی حفاظت کے لئے جان دے رہی ہے لیکن اسکے باوجود ملک کے قانون نافظ کرنے والے ادارے ملک میں جرائم کو روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں ۔ ملک میں پولیس اہلکاروں کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے ۔ ایسی صورت حال میں ہمارا ملک تباہ ہو ریا ہے اسی لئے میری گزارش ہے کہ آپ پولیس کو موثر بنانے کے لیئے عوام سے اپیل کریں کہ وہ ملک سے جرائم کے خاتمہ میں پولیس کا ساتھ دیں ۔ ملک بھر میں ہر علاقے میں رٹائرڈ بزرگوں پر مشتمل محلہ کمیٹی بنادیں جو اپنے اپنے محلہ/ علاقے کے ذمے دار ہوں اس کام کے لئے آپ سیاسی جماعتوں سے تعاون کی اپیل کر سکتے ہیں کے وہ اس کام میں ساتھ دے اور ان محلہ کمیٹیوں کو کہیں کہ محلہ میں ہر آنے والے نئے کرایہ دار کی تفصیل علاقے کے تھانے میں درج کرایں اس طرح دہشت گرد علاقوں میں جلدی مقیم نہیں ہو سکتے اس کے علاوہ اگی علاقے میں کسی سے گھر چوری ہو جائے یہ علاقے کے کسی فرد کے ساتھ کسی قسم کی واردات ہو جائے مثلاً علاقے کے کسی فرد کا کوئی موبائل فون چھن جائے تو اکسر اوقات لوگ اسکی نہ تو کمپلین کرتے ہیں اور نہ CPLC  سے اسکو بند کرواتے ہیں لوگوں کو کہیں کے اسکو بھی معمولی بات کے طور پر نہ لیں بعض اوقات لوگ تنہا ہونے کی وجہ سے پولیس کی کاروائی اور پوجھ تاچھ سے گہبراتے ہیں ایسے میں محلہ کمیٹی کو وہ لوگ آگاہ کر سکتے ہیں اور محلہ کمیٹی خود پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کراسکتی ہے جس سے جرائم کو کنٹرول کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ بس اس بات کو دھان میں رکھنا ہوگا کہ وہ خود قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور جرائم کے خاتمہ کے لئے صرف پولیس کی مدد کریں۔ 
اس کہ علاوہ آپ پولیس کو 2 ،2  کے گروپ میں رکھیں اس طرح سے پولیس زیادہ علاقہ نظر میں رکھ سکتی ہے اس کے لئے آپ پولیس کو موٹر سائیکل اور کار جو جدید طرز پر تیار ہوں ایک مہران کار کی لاگت بما ایک کیمرہ ، ایک فرسٹ ایڈ بوکس کے لاگت تقریباً 10,000,00 روپے ہوگی اور ایک موٹر سائیکل کی قیمت تقریباً ایک لاتؤکھ روپے ہوگی ۔ اس کے علاوہ آپ ہر حساس علاقے میں اور اہم ترین مقامات پر CCTV کیمروں کی تعداد بڑھادیں کنٹرول روم تقریباً ہر شہر میں پہلے سے ہی موجود ہیں اور کیمرے بھی ہیں لیکن ان کی تعداد زیادہ ہونی چاہے اس کام میں کوئی بہت زیادہ خرچہ نہیں ہے ۔ آپ بڑے شہروں سے شروع کریں اور ملک میں چھوٹے شہروں تک نظام پہجنے تک ملک میں امن و امان کی صورت حال کافی بہتر ہو چکی ہوگی۔ پولیس کے دو دو کے گروپ پولیس دہشت گردوں کے لئے آسان ہدف معلوم ہو سکتے ہیں لیکن در حقیقت یہ جرائم کے خاتمے میں کافی موثر سابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ آپ پولیس سے کرپشن کے خاتمے کے لئے سالانہ پولیس ٹرینگ ٹیسٹ رکھیں، لائر ڈیٹکٹرز کا استعمال کریں اور پولیس کے لئے کچھ سوالات کے جوابات کا ایک چارٹ تیار کروادیں جس سے پولیس میں کرپشن کے خاتمہ میں مدد ملے گی کیوں کے لائر ڈیٹکٹر کو دھوکہ دینا آسان نہیں ہوگا اور جب یہ ٹیکنا لوجی کام میں آئے گی تو اسکو بہتر بہی کرلیا جائے گا۔ اس کے علاوہ آپ عوام کی سہولت کے لئے  SMS کمپلین سسٹم متارف کروادیں جس میں لوگ نہ صرف اپنی بلکہ اگر کوئی پولیس اہل کار کرپٹ ہے تو اسکی بھی کمپلین کر سکتے ہیں جس پر کاروائی کی جا سکتی ہے اور اگر کوئی پولیس کے نمبر پر کال کر کے فوراً بند کردے تو پولیس فوراً اس کو دوبارہ کال کرے اور کال کی وجہ معلوم کرے ساتھ ہی آپ پولیس کو موبائیل فون ٹیکینگ سسٹم بھی دیں جو کہ اس وقت پاکستان کی پولیس کے پاس نہیں سے اور وہ اس کام کے لئے CPLC کے پاس جاتے ہیں اور اس کام میں کافی وقت بلکہ کئی دن کا وقت لگ جاتا ہے ۔ 
آپ ہر عدالت میں بھی لائر ڈیٹکٹر نصب کریں اور ملک میں ضمانت صرف شخصی رکھ دیں اس سے بھی جرائم کے خاتمے میں مدد ملے گی اور ملک بہتر ہوگا۔ ساتھ ہی تمام صوبوں کے ائی جیز کو بھی غیر جانب دار رہنے کی ہدایت کریں اور اپنا کام بنا کسی خوف و خطر کے انجام دینے کے لئے ان کا حوصلہ بڑھاییں۔ ملک میں لوگوں کو انکے قانونی حقوق بتائیں جائیں اور ہر پولیس اسٹیشن میں ایک قانونی ماہر کو رکھا جائے ۔ ہو سکے تو ملک میں پولیس کو سب سے بڑا درجہ دیا جائے اور پولیس کو فوج سے بھی بڑا کر دیا جائے اور اس کا میار بھی فوج کے برابر کردیا جائے اور افواج پاکستان کی جوئنٹ کمیٹی میں پولیس کا بھی ایک سربراہ ہو جس سے تحت تمام صوبوں کے آئی جی کام کریں اور یہ ملک میں صرف وفاقی وزیر داخلہ اور صدر پاکستان کے انڈر میں ہوں ۔ اس سے ملک میں مارشل لا بھی کبھی کوئی جنرل نہیں لگا سکتا۔ اور ملک میں پولیس کا نظام بھی زیادہ مزبوط ہوگا ۔پولیس کی وردی بھی رعب دار بنائیں ۔ ایک چھوٹی سی نفسیات ہے لیکن اس سے بھی ملک میں عوام پر اور جرائم پیشہ افراد کی سوچ پر کافی فرق پڑھ سکتا ہے۔



تعلیم

تعلیم تافتہ تبقہ کسی بھی ملک میں ریڑھ کی حثیت رکھتا ہے اور جاہل آدمی ملک میں صرف بوجھ ہوگا ہے اس جملہ پر ملک میں ایک مہم شروع کریں اور لوگوں کو تعلیم کے حصول کے لئے جد و جہد کرنے کے لئے Motivate کریں ۔ ملک میں تعلیم لازمی کردیں اور ہو سکے تو انٹر تک تعلیم لازمی اور مفت کردیں ملک میں شناختی کارڈ کے حصول کے لئے کم از کم میٹرک کی سند لازمی کردیں ملک میں 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں یہ کام کے حصول کے لئے بیرون ملک جانے والے لوگوں پر میٹرک یہ انٹر تک تعلیم لازمی کردیں ۔ ملک میں ان پڑھ لوگوں کو پراپٹی کو حدود طے کردیں میری تجویز ہے کہ ایک کروڑ کردیں جس سے ملک میں ایک ان پڑھ شخص زیادہ دولت بھی نہیں رکھ سکتا اس کے لئے تعلیم کا حصول لازمی ہوگا۔ تعلیمی اداروں سے سیاسی بنیادوں پر منبی جماعتوں کا خاتمہ کریں اور تمام دیگر جماعتوں کو تعلیمی اداروں کے سربراہ کی اجازت کے بغیر کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ امتہانی مراکز میں میڈیا کی مدد لیں یہ کم سے کم ایک کیمرہ مین کو ملک میں امتحانی مراکز میں ہر کمرہ میں طالب علموں کی نگرانی کے لئے رکھیں اور ساتھ ہی امتہانی مراکز میں امتہانی شیٹوں میں کمرہ نمبر کا بھی اندراج کرنے کے لئے کولم کونا چاہیے اس کے ساتھ امتہانات کے دوران ایک کمپلین سینٹر بھی بنانا چاہیے جس سے نقل کے رجان میں کمی آئے انکے ایڈمٹ کارڈ پر اور امتہانی مراکز میں دونوں میں انی تصویرں ہوں جس سے انکی پہچان ہو سکے کہ کوئی اور تو انکے بدل امتہان نہیں دے رہا ہے۔ ملک کے تمام تعلیمی اداروں چاہے وہ پبلک ہوں یہ نجی دونوں میں طالب علموں کے والدین  کو انکی مہانہ رپوٹ دیں اور انکے والدین کی میٹینگ رکھیں انکے استادوں کے ساتھ ۔ 
اس کے ساتھ ہر صوبے کو پابند کریں کہ جب تک ملک میں تعلیم کی شرع %100 نہیں ہو جاتی تعلیم کے لئے آپ کے صوبے کا بجٹ کم سے کم %6 لازمی ہونا چاہیے اور ہر صوبے سے  تعلیمی اداروں پر ناجائز قبضہ کئے ہوئے لوگوں کو سزا دینے اور ملک میں ان سے قبضہ خالی کرانے لئے اقدامات کا فوری حکم دیا جائے ۔ ملک میں ایک ٹیچر کو زیادہ سے زیادہ صرف چالیس طالب علموں کو ہی ایک وقت میں تعلیم دینے کی اجازت ہو اس سے زیادہ وہ ایک وقت میں ایک کلاس میں تعلیم نہیں دے سکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور سیاسی جماعتوں کی مدد سے ایسے دکان داروں کو جہاں 15 سال سے کم عمر کے بچے کام کر رہے ہوں اور تعلیم نہ حاصل کر رہے ہوں وہاں انکو کہا جائے کہ اگر آپ کی دکان پر کوئی بچہ 15 سے کم عمر کام کار رہا ہے اور تعلیم حاصل نہیں کر رہا ہے تو انکے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔ اس طرح تعلیم حاصل کرنا ہر کسی کے لئے ضروری ہو جائے گا۔ ملک میں اس طرح کے کڑے اقدامات کیئے جائیں گے تبھی ملک میں تعلیم لازمی ہوگی۔ اور ملک ترقی کرے گا۔



صحت

ملک میں صحت سے جڑے بہت مسائل ہیں اس کے لئے آپ ملک میں وزیر صحت کو حکم دیں کہ ملک میں کچرے کی صفائی کے لئے ایک مہم شروع کریں اور ملک سے تین ماہ میں ہر گلی ہر محلہ سے کچرہ صاف کریں اور ملک میں جہاں جہاں کچرہ صاف ہوتا جائے وہاں وہاں کچرہ سڑکوں پر پیہکنے پر پابندی لگادی جائے اور اس میں چھوٹے بجوں سے بھی رعایت نہ برتی جائے۔ اس کے بعد ملک میں کچرے کی صفائی کو برقرار رکھنے کے لئے ٹھکاداری نظام کی بنیاد پر ملک کے ہر حصہ میں کچرہ کی صفائی کا نظام رکھیں اور کچرہ اٹھانی والی گاڑیوں سے ہر محلہ میں جا کر وہاں ہر گلی میں یہ اعلان کرادیں کہ آیندہ آپ کے محلہ میں ہر روز ایک گاڑی آئے گی اور آپ کے گھر کا تمام کچرہ لے جائے گی اور وہ کچرہ شہر سے باہر بنی یہ مخصوص جگہ پر ڈالی جائیں گی اس طرح لوگ کچرہ اپنے گھر سے باہر نہیں پینکے گے اور سڑکیں صاف ستھری ہوجائیں گی اور شاراہوں پر جگہ جگہ کچرے کے ڈبے نصب کئے جایئں جس میں سڑکوں پر چلنے والے لوگ کچرہ ڈالیں۔ ملک میں بکنے والی ہر صفائی کی اشیا ٹوتھ پیسٹ ، صابن وغیرہ پر صاف صاف اردو اور انگریزی میں عبارت لکھی جائے کے صفائی نفس (آدھا) ایمان ہے۔ ملک میں سگریٹ نوشی ، تمباکو، چھالیا، پان اور اس قسم کی دیگر چیزوں پر پبندی لگا دی جائے اس سے صحت کے مسائل بھی کم ہوں گے اور ملک میں صفائی کی صورت حال بھی بہتر ہوگی۔ ملک میں وال چاکنگ کو جرم کرار دے کر جو ادارہ ملک میں وال چاکنگ میں ملوث ہو اور جس ادارے کی وال جاکنگ ہو ، سیاسی جماعتوں سمیت سب پر جرمانا عائد کیا جائے۔ 



ڈاکیومنٹس

ملک سے تمام غیر ضروری ڈاکیومنٹس ختم کردیئے جائیں ۔ ڈومیسائل یا پی آر سی کی ملک کو کوئی ضرورت نہیں ہے ملک میں شناختی کارڈ ہی کافی ہے آپ کو ملک کا ایک شہری ثابت کرنے کے لئے ۔ اور شناختی کارڈ بنانے کے لئے ملک میں ناردا کے ہر دفتر کے باہر آپ بینر لگوادیں جس میں ملک میں قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لئے کن کن چیزوں کی ضرورت ہوگی تاکے لوگوں کو بتا ہو اور ان کے لئے شناختی کارڈ کے حصول میں پریشانی کم ہو سکے ۔ میری تجویز ہے کے ملک میں قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لئے  آپ کا پیدائشی سارٹیفکٹ، میٹرک کی مارک شیٹ، علاقے کے پولیس اسٹیشن کے ایک عدد لیڑر جس سے معلوم ہو سکے کے شخص علاقے کا رہائشی ہے اور اس کے علاوہ اس کے ماں اور باپ کے شناختی کارڈ اور انکا نکاح نامہ۔ اسی طرح ب فارم بھی غیر ضروری ہے اسکو بھی ختم کردیا جائے ۔ ملک میں پاسپورٹ بنانے کے لئے بھی صرف شناختی کارڈ ہی ضروری ہو کیوں کہ شناختی کارڈ میں آپ کا سارا ڈیٹا موجود ہوگا۔
ایک تجویز یہ بھی ہے کی ملک میں ہر پراپرٹی کو ناردا کے تحت رجسٹرد کیا جائے اور تاکہ جو بھی شخص کوئی پراپرٹی خریدے تو وہ ناردا سے رجسڑدڈ ہو اور کوئی اس شخص کی پراپرٹی کو ناجائز طور پر قبضہ نہ کر سکے اس طرح سے ملک میں لوگوں کی پراپرٹی بھی محفوظ ہوگی اور ساتھ ہی ایسی پراپرٹی جو کسی نے خریدنے کے بعد رجسٹر نہ کرائی ہو صرف ٹیکس کے بجنے کے لئے تو ایسی پراپرٹی جو نادرا سے رجسٹرڈ نہ ہو ان پر اگر کوئی اور قبضہ کرلے تو اس پر کوئی بھی کیس نہ ہو اس طرح پاکستان میں ہر شخص اپنی پراپرٹی کو رجسڑ کرائے گا اور ملک میں حکومت کے پاس بھی یہ اداد و شمار ہوں کے کہ کس کے پاس کتنی پراپرٹی ہے اور وہ کتنا ٹیکس دے گا اور ساتھ ہی کسی پاکستانی کے پاس کوئی پراپرٹی نہیں ہے جس سے اگر آنے والے وقت میں کوئی ہاوسنگ اسکیم شروع کی جائے یہ پاکستان کے شہریوں کو کوئی سہولت دی جائے تو صرف ضرورت مندوں تک ہی ملے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔



کاروبار و معشیت

ملک می کاروبار و معشیت کا حال جو ہے اس سے سب ہی واقف ہیں ۔ اس معملے میں میری تجویز ہے کہ ملک میں ہر حکومت اپنے طریقے سے کام کرتی کے ملک میں ایک ٹارگیٹ ہونا چاہیے کے ہمیں کہاں ترقی کرنی ہے۔ میری تجویز ہے کے ملک کو World Trade Center (عالمی تجارتی مرکز) بنادیا جائے۔ ملک میں ہر شہر میں مارکیٹیوں کا قیام کریں جس میں صرف بین الاقوامی سامان ہی فروخت ہو ۔ اس سے جو سامان دنیا میں دس الگ الگ ملکوں میں جا کے کسی کو ملتا ہو وہ پاکستان میں صرف ایک جگہ سب کو مل سکتا ہے اس طرح ملک میں سیاحت کا شبعہ بھی ترقی کرے گا اور ساتھ ساتھ ملک میں ایسے ٹیکس فری آفسس کا قیام کریں جس میں دوسرے ملکوں کے تاجر برائے راست ملک میں آکر دوسرے ملکوں سے مقامی اور دوسرے تاجروں سے تجارتی معاہدہ کر سکیں۔ اس سے ملک میں ان کے آنے پر ایر پورٹ سے لے کر ملک میں قیام پر جو بھی اخراجات ہوں کے وہ خود ہی کریں گے جس سے ملک کی معشیت اور حکومت ، عوام ، ٹرانسپوٹرز، ہوٹل مالکان اور سرمایا کاروں کو فائدہ ہوگا۔ کم منافہ لیکن ایک طاقتور معشیت کے لئے ایک ضروری قدم ثابت ہوگا۔ اور دنیا میں تجارتی مرکز ہونے کی حثیت سے ملک پاکستان یقینً دنیا میں اپنا ایک اہم مقام رکھے گا۔ اس کے علاوہ آپ ملک میں تمام بڑی کاروباری شخصیات کو اکھٹا کیا جائے اور ان سے پاکستان میں ترقی اور کام کے لئے تعاون کی اپیل کی جائے ۔ ملک میں معدینات کے جو ذخائر ہیں  مثلاً کوئلہ، سونا، چاندی، تانبا، وغیرہ ان سب میں کاروبار کے لئے مدد کی درخواست کی جائے ۔ ملک میں تھر میں اتنا کوئلہ ہونے کے باوجود ملک میں ایک بھی کوئلہ صاف کرنے کا پلانٹ نہیں کے جس کی وجہ سے ملک میں کوئلہ آسٹرلیا سے درآمد کیا جاتا ہے ۔ اس میں سرمایا کاری کی جائے ۔ ملک میں پرانی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ملک میں چونا پتھر اور سنگ مرمر کا قافی بڑا حصہ ظایا ہوجاتا ہے اور ملک میں سونے اور چاندی کے قیمتی ذخائر ایسے ہی برباد ہو رہے ہیں ۔ ملک کے قبایلی علاقوں میں قیمتی پتھر کوڑیوں کے دام فروخت ہوتے ہیں اور غیر ملکی کمپنیاں وہ جواہر خرید کر اور تراش کر مہنگے داموں ملک میں فروخت کرتی ہیں ۔ اس کے لئے ملک میں قومی معدینات پالیسی بنائی جائے اور ملک کی تمام معدنیات کا ملکمل اختیار صوبوں کو دیا جائے اور ایک قبایلی علاقوں میں ایک جیوئل کمپنی قائم کی جائے۔ اس کے علاوہ ملک میں ٹیکنالوجی کو ہی ملک کی ترقی کا واحد ذریہ قرار دیا جائے ۔ اور اس انڈسٹری میں سب سے کم ٹیکس لگایا جائے۔ ساتھ ہی ملک میں کوئی بھی نئی ایجاد کرنے پر پاکستانوں کو انعام دیا جائے یہ کوئی ایسا کام کرنے پر جس سے ملک کا نام دنیا میں روشن ہو انعام دیا جائے ۔ اس سے لوگوں کا اعتماد اپنی حکومت پر بڑھے گا اور لوگ زیادہ سے زیادہ ملکی ترقی کے لئے کوشش کریں گے۔ ساتھ ساتھ ملک میں سختی کی جائے کے ملک میں ہر حال میں کاروبار کھلا ہو چاہے کسی کا سوگ ہو ، کسی VIP کی آمد ہو یہ کوئی اتجاج اس بات کو یقینی بنائیں کے ان کا کاروبار کوئی زبردستی بند نہ کرائے اور ان کو مکمل اعتماد میں لیا جائے تاکہ ملک میں افراتفری کا یہ ماحول ختم ہو ملک میں ہفتہ وار سارکاری دفاتر میں 2 چھٹیوں سے بجانے صرف ایک چھٹی اور ملک میں صرف عیدالفتر اور عیدالضیٰ کے موقہ پر ہی تین تین دن کی چھٹی دی جائے جس سے ملک کی معشی صورتحال بھی بہتر ہو۔  ملک میں بڑی بڑی مارکیٹیوں کا قیام کیا جائے جس میں اسٹال سسٹم پر ملک میں تمام ٹھیئے والوں کو وہاں منتقل کیا جائے اور مین روڈ سے ان کا صفایا کیا جائے ۔اس کے علاوہ ملک میں ٹیکس وصولی کا کام سارا صوبوں کے تحت کردیا جائے یہاں تک کے اگر وفاق بھی کوئی ٹیکس عائد کرتا ہو تو وہ بھی صوبے ہی وصول کریں اور معمولی فیس کے بعد وفاق کو دیں۔ ملک میں پاکستان اسٹینڈرڈ نام سے ایک مکمل ادارہ بنایا جائے جس سے پاکستان میں استعمال ہونے والی ہر جیز رجسڑڈ ہو اور ایک میار ہو ہر جیز کا یہاں تک کے ملک میں جو سڑکیں بھی بنیں وہ بھی پاکستان اسٹینڈرڈ کے مطابق ہوں۔ ہر کھانے پینے کی جیز رجسڑ کی جائے اور اگر وہ مقررہ میار کی نا ہو تو کمپنی کے خلاف کاروائی کی جائے اور سیاسی جماعتوں سے تعاون سے انکے کارکنان کے ذریعے اس بات کے انشور کیا جائے کے ملک میں وہ اس کمپنی کی وہ پراڈکٹ تو نہیں بک رہی جس سے پاکستان میں لوگوں کا میار زندگی بھی بہترہوگا۔



سیاست اور ایلکشن اور صوبے

ملک میں سیاست دانوں کے لئے جو اسیمبلی میں ہوں کڑے قانون بنائے جائیں اور جو بھی ملک میں غیر اخلاقی زبان یہ غیر اخلاقی حرکات کا مرتب ہو اس کے خلاف کاروائی کی جائے اسمبلیوں میں بچوں کی طرح جھگڑنے پر ان کے خلاف جرمانہ یہ ایک دن سے ایک ہفتہ کی جیل کی سزا بھی رکھیں۔ کیوں کے وہ ایک ملک چلانے کے لئے آئے ہیں اور ملک چلانے کے لئے ٹھنڈا دماغ اور شائستہ زبان ہونا ضروری ہے۔  اس کے علاوہ ملک میں غیر ضروری وزارتون جیسے وزارتے ریلوے کیوں کے اگرریلوے کے وزارت کے تو ملک میں دوسرے اداروں کی بھی وزارت ہونی جاہیے جیسے وزارت اسٹیل مل یا وزارت پی آی آے ۔ اسی لئے اس طرح کی وزارت کا خاتمہ کیا جائے اور ملک میں ریلوے کو پاکستان ریلوے سے ختم کر کے صوبوں کے خوالے کیا جائے اور ان کو انٹر اسٹیٹ سسٹم سے تحت جوائن کیا جائے۔ اور وزارت مذہبی امور اور اقلیتی وزارت بھی ختم کی جائے کیوں کے اقلیت صرف مذہب کی بنیاد پر ہی بنتی ہے اس کے بجائے ملک میں ایک مذہبی امور کا ایک ادارہ بنادیا جائے جس میں پاکستان سے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے شامل ہوں اور اپنے اپنے مذہب کی نمایندگی کریں اور مذہبی ہم آہنگنی کو پروان چڑھایں اور اپنے اپنے مذاہب کے مانے والے لوگوں کی شکایات کے اضالے کی بھی کوشش کریں ۔ اس سے پاکستان میں غیر مسلموں کو جو دوسرے درجہ کا شہری مانا جاتا ہے اس میں بھی کمی آئے گی اور انکو بھی حقوق ملیں گے۔
ملک میں جو اگلی بار الیکشن ہوں وہ نئے صوبوں میں ہوں اور نئے صوبوں کے لئے میری تجویز ہے کے ملک میں جو ڈیویزن یا اضلاع ہیں انھی کو صوبے کا درجہ دے دیا جائے۔ 
ساتھ ہی اب جو ملک میں نئے الیکشن ہوں وہ سٹیپ میں ہوں پہلے ملک کے ایک حصے میں بھی دوسے حصے میں اس طرح الیکشن کا خرچہ بھی بچے کا اور دھندلی بھی نہیں ہوگی ۔ ساتھ ہی تمام الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوں کیوں کے ملک میں صرف فوج ہی واحد ایسا ادارہ ہے جس کا شاید رعب ملک میں سب سے زیادہ ہے اور ملک کی عوام بھی سب  سے زیادہ افواج پاکستان پر ہی بھروسا کرتی ہیں۔  پاکستان کے ہر صوبہ اور جماعت کے جھنڈوں پر ایک چھوٹا سا قومی پرچم لازمی ہونا چاہیئے اس سے تمام جماعتیں کو اپنے جھنڈوں کی عزت کی خیال بھی ہوگا اور انکے رہنماؤں و کارکنان کے دل میں بھی پاکستان کے لئے محبت  بڑھے گی۔وفاقی حکومت صرف مونٹرنگ اور انٹرنیشنل پالیسیوں کا ہی کام انجام دے اور پاقی کام مقامی حکومتوں پر چھوڑ دے اس طرح کسی بھی حکومت پر نہ کوئی زیادہ کام کا دباو ہوگا نہ زیادہ مشکل ہوگی حکومت کو۔